Challenges With Coronavirus Vaccine

181

جیسا کہ کرونا وائرس اس وقت 200 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور 6 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ مختلف کمپنیاں اور تحقیقی ادارے اس کی ویکسین تلاش کرنے کے لیے کوشا ں ہیں۔ ہر کسی کے دماغ میں یہ سوال ہے کہ انساینت کو آخر کب اس مہلک مرض سے نجات ملے گی۔

چینی سائنسدان کرونا وائرس کے جینیٹک میٹیر یل کا تسلسل ڈھونڈنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کے بعد سے دنیا کی مختلف ریسرچ ٹیمیں اس وائرس کو تیار کر رہی ہیں اور اس کی نشو و نما کے ساتھ ساتھ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ وائرس کس طرح انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے۔

Read: What Is Coronavirus : Symptoms And Protection

سائنسدان اس سے پہلے دو مختلف وائرس پر کام کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک سارس وائرس ہے جسکی وجہ سے 2003 میں چین میں بے شمار اموات واقع ہوئی تھیں۔ اور پھر 2012 میں پھیلنے والے ‘مرس’ وائرس پر بھی کافی تحقیق کی گئی تھی۔

دو سال بعد جب ان وائرس پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا تھا تو سائنسدانوں نے ان پر کام روک دیا تھا۔ لیکن اب کرونا وائرس کی وجہ سے ایک کمپنی “نوواویکس” نے اسی ویکسین پر دوبارہ کام شروع کیا اور اب اسے کرونا وائرس کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

Read: Coronavirus Updates in Pakistan

Read: Coronavirus: Punjab Government Releasing 20,000 Prisoners

نوواویکس کا کہنا ہے ک ان کے پاس ایسے بہت سے انسان موجود ہیں جو اس ویکسین کے ٹرائل سے گزرنے کو تیار ہیں۔

کرونا وائرس کے جینیٹک میٹیریل 80 سے 90 فیصد سارس کے جینیٹک میٹیریل سے ملتے ہیں ۔ اسی لیے اسے سارس-2 بھی کہا جاتا ہے۔  کہا جاتا ہے کہ ویکسین تیار ہو جانے کے بعد بھی مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جو کہ اس ویکسین کو تمام ممالک تک پھیلانا ہے۔ اس کی مثال بھارت سے لی جا سکتی ہے جہاں تقریبا ایک بلین سے بھی زیادہ لوگ بستے ہیں۔

اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی ویکسین تیار ہو جانے کے بعد یہ چیلنج ختم نہیں ہو پائے گا۔

Read: Maya Ali’s Contribution To Coronavirus Situation

Read: Restriction On Namaz-e-Juma In Sindh